جب ریپنزل بڑی ہوئی، تو جادوگرنی نے اسے ایک ایسے اونچے مینار میں قید کر دیا جس کا نہ کوئی دروازہ تھا اور نہ سیڑھی۔ ریپنزل کے بال بہت لمبے اور سنہری تھے۔ جب بھی جادوگرنی کو اوپر آنا ہوتا، وہ پکارتی:
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کہانی میں کسی خاص کے ساتھ اسے دوبارہ لکھوں یا آپ کو کسی دوسری کہانی کے بارے میں معلومات چاہیے؟
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک ایسی شہزادی بھی تھی جس کے بال اتنے لمبے اور مضبوط تھے کہ وہ ایک سیڑھی کا کام دیتے تھے؟ جی ہاں! یہ کہانی ہے کی، جو برسوں تک ایک اونچے مینار میں قید رہی۔ 🏰 کہانی کا آغاز
ایک دن ایک شہزادہ جنگل سے گزر رہا تھا کہ اس نے ریپنزل کی سریلی آواز میں گانا سنا۔ اس نے جادوگرنی کو بال پکڑ کر اوپر جاتے دیکھ لیا۔ جب جادوگرنی چلی گئی، تو شہزادے نے بھی وہی الفاظ دہرائے اور اوپر پہنچ گیا۔ دونوں ایک دوسرے کے اچھے دوست بن گئے اور شہزادے نے اسے وہاں سے نکالنے کا وعدہ کیا۔